یہ تعلیل بحمد اللہ تعالیٰ اس معنی کی مؤید (یعنی:تائید کرتی) ہے جو فقیر نے سمجھے، یعنی ان کی دعا مقبول نہ ہونا خاص اسی مادّے (بارے)میں ہے۔
سبب ۱۲، ۱۳، ۱۴:اسی ''غَمْزُ الْعُیُوْن'' میں ''کِتَابُ الْمُحَاضَرَات'' ابو یحییٰ زکریا مراغی سے نقل کیا: حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اللہ تعالیٰ ۶چھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 أي: غمز عیون البصائر وہو مشہور بیننا۔
2 دَین کی تعریف: جو چیز واجب فی الذمہ ہو کسی عقد مثلاً: بیع یا اجارہ کی وجہ سے یا کسی چیز کے ہلاک کرنے سے اس کے ذمہ تاوان واجب ہوا یا قرض کی وجہ سے واجب ہوااِن سب کو دین کہتے ہیں دین کی ایک خاص صورت کا نام قرض ہے جس کو لوگ دست گرداں کہتے ہیں، ہر دین کو آج کل لوگ قرض بولا کرتے ہیں یہ فقہ کی اصطلاح کے خلاف ہے۔
(''بہارِ شریعت''،حصہ یازدہم، مبیع اور ثمن میں تصرف کا بیان، ج۲، ص۷۵۲)
3 ''غمز عیون البصائر''، الفن الثالث، فائدۃ: ثلاثۃ لا یستجاب دعاء ھم، ج۳، ص۲۵۳.
4 ترجمہ کنز الایمان: ''اور جب خرید وفروخت کرو تو گواہ کرلو۔''(پ۳، البقرۃ: ۲۸۲)