نہیں۔''(1)
اورعورت کی نسبت صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے، اس کی کَجی ہر گز نہ جائے گی، سیدھا کرنا چاہو تو ٹوٹ جائے گی اور اس کا ٹوٹنا یہ ہے کہ طلاق دے دی جائے۔(2) پس یا تو آدمی اس کی کجی پر صبر کرے یا طلاق دیدے کہ نہ طلاق دیتا نہ صبر کرتا بلکہ بددعا دیتا ہے، قابل قبول نہیں۔
یونہی جب گواہ نہ کئے خود اپنا مال مہلکہ (ہلاکت)میں ڈالا اور سَفِیْہ(بے وقوف)کو دینا بربادی کے لیے پیش کرنا ہے۔ پھر دانستہ، مواقع مضرت (نقصاندہ جگہوں)میں پڑ کر خَلَاص(چھٹکارا)مانگنا حماقت ہے۔
خلاصہ یہ ہے: ''خویشتن کردہ را علاجے نیست''(3)فقیر کے خیال میں ظاہراً معنئ احادیث یہ ہیں،