مگر ظاہراً اس سے مراد یہی کہ اس خاص مادے میں انکی دعا نہ سنی جائے گی نہ یہ کہ جو ایسا کرے مطلقاً اس کی کوئی دعا کسی امر میں قبول نہ ہو اور ان اُمور میں عدمِ قبول کا سبب ظاہر کہ یہ کام خود اپنے ہاتھوں کے کئے ہیں۔
ویرانے مکان میں اترنے والا اس کی مُضَرَّتوں (نقصانات)سے آگاہ ہے، پھر اگر وہاں چوری ہو یا کوئی لوٹ لے یا جِنّ ایذا پہنچائیں تو یہ باتیں خود اس کی قبول کی ہوئی ہیں، اب کیوں ان کے رفع کی دعا کرتا ہے!۔
یونہی جب راستے پر قیام کیا تو ہر قسم کے لوگ گزریں گے، اب اگر چوری ہو جائے، یا ہاتھی گھوڑے کے پاؤں سے کچھ نقصان، رات کو سانپ وغیرہ سے ایذا پہنچے اس کا اپنا کیا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''شب کوسرِ راہ نہ اترو(یعنی رات کو راستے میں پڑاؤ نہ ڈالو)کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جسے چاہے راہ پرپھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔''(1)
اور جانور کو خود چھوڑ کر اس کے حَبْس(یعنی اس پر قابو پانے)کی دعا تو ظاہر حماقت ہے کیا واحد قہار کو آزماتا یا معاذ اللہ اسے اپنا محکوم ٹھہراتا ہے!۔
سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیہ الصلاۃ والسلام سے کسی نے کہا:اگر خدا کی قدرت پر بھروسہ ہے اپنے آپ کو اس پہاڑ سے نیچے گرا دو، فرمایا:''میں اپنے رب کو آزماتا