| فضائلِ دعا |
چوتھا سبب: حکمتِ الٰہی ہے کہ کبھی تو براہِ نادانی کوئی چیز اس سے طلب کرتا ہے اور وہ براہِ مہربانی تیری دعا کو اس سبب سے کہ تیرے حق میں مضر ہے، رد فرماتا ہے، مثلاً:تو جویائے سیم وزر ہے اور اس میں تیرے ایمان کا خطر ہے یا تو خواہانِ تندرستی وعافیت ہے اور وہ علمِ خدا میں موجب نقصانِ عاقبت ہے، ایسا رد ،قبول سے بہتر۔
(عَسٰی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ)(1)
پر نظر کر اور اس رد کا شکر بجالا۔ (2)
پانچواں سبب: کبھی دعا کے بدلے ثوابِ آخرت دینا منظور ہوتا ہے، تو حُطامِ دنیا (دنیوی ساز وسامان)طلب کرتا ہے اور پروردگار نفائسِ آخرت (آخرت کی عمدہ چیزیں)تیرے لیے ذخیرہ فرماتا ہے، یہ جائے شکر ہے (شکر کا مقام ہے)نہ (کہ)مقامِ شکایت۔
قال الرضاء:
سبب ۶ تا سبب ۱۱: حضور سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''تین شخص ہیں کہ تیرا رب ان کی دعا نہیں قبول کرتا:
ایک وہ کہ ویرانے مکان میں اترے۔
دوسرا وہ مسافر کہ سرِ راہ مقام کرے یعنی سڑک سے بچ کر نہ ٹھہرے، بلکہ خاصــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1ترجمہ کنز الایمان: ''قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بُری ہو۔'' (پ۲، البقرۃ: ۲۱۶) 2 بعض اوقات دعا قبول نہ ہونے میں حکمت خداوندی یہ ہوتی ہے کہ تو جو مانگ رہاہے وہ تیرے لئے نقصان دہ ہے مثلاً: تو مال ودولت مانگتا ہے لیکن وہ تیرے ایمان کے لیے خطرناک ہے، تو صحت وعافیت کا سوال کرتا ہے لیکن اس میں تیری آخرت کا نقصان ہے، ایسی دعا کا قبول نہ ہونا ہی بہتر ہے تو ایسی دعا کے رَد پر تجھے چاہے کہ شکرِ خداوندی بجالا۔