Brailvi Books

فضائلِ دعا
157 - 322
مالک ہے تابع نہیں، اگر تیری دعا قبول نہ فرمائی تجھے ناخوشی اور غصے، شکایت اور شکوے کی مجال کب ہے، جب خاصوں کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں جب چاہتے منع فرماتے ہیں تو تُو کس شمار میں ہے کہ اپنی مراد پر اِصرار کرتا ہے!۔(1)
(وَاللہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۱﴾)(2).
    قال الرضاء: اس کا اِستغناء حق، اس کا وعدہ حق، اس کی بات تمام، اس کی رحمت عام، دعا کہ شرائط وآداب کی جامع ہو، حصولِ مسؤل ہی کے ساتھ قبول ہونا ضرور نہیں، دفعِ بَلاہے، ثوابِ عقبیٰ ہے، جیسا کہ آتا ہے اور بایں ہمہ اس پر کچھ واجب نہیں۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز سے غنی ہے ہر خوبی و صفت اسی کے واسطے ہے وہ جو چاہے کرے کسی کو مجالِ اُف تک نہیں ہے اس کاتواپنے نیک بندوں کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب چاہتاہے ان کو دیتاہے اور جب چاہتاہے ان کواس چیز کی طلب سے منع فرمادیتاہے تو اگر اس نے تیری دعا قبول نہیں فرمائی توتیری کیا مجال کہ تو ناخوشی کااظہارکرے یااسکی بارگاہ میں شکوے شکایت کرتے ہوئے بار باراُسی چیز کے حصول کی دعا مانگے!۔

2 ترجمہ کنزالایمان :''اوراللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے ۔''

(پ۱۲، یوسف: ۲۱)

3 وہ بے نیاز ہے، اس کا وعدہ سچا ہے، اس کی بات ہو کر رہتی ہے، اس کی رحمت سب کوشامل ہے چنانچہ اگر دعا میں شرائط وآداب کا مکمل خیال ولحاظ رکھ بھی لیا جائے تو یہ بات ضروری نہیں کہ جو چیزدعا میں مانگی جارہی ہے وہی چیز حاصل بھی ہوجائے، ہوسکتا ہے کہ اس پر کوئی بلا ومصیبت آنے والی تھی جو اس دعا کی وجہ سے ٹل گئی ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ اس دعا کے سبب اسکے ہاتھ نیکیوں کا ایسا بے بہا خزانہ آیاہو جو آخرت میں کام آئے بہرحال اگر بیان کردہ دونوں صورتیں نہ بھی ہوں تو وہ رب عزوجل قادر مطلق ہے جو چاہے کرے اس پر کسی کا زور نہیں اور نہ ہی اس پر کچھ دینا واجب ولازم ۔
Flag Counter