| فضائلِ دعا |
اور ابو صدیق ناجیؔ سے روایت ہے حضر ت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام مینہ کی دعا کے واسطے باہر نکلے ایک چیونٹی کو دیکھا اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے کہتی ہے: ''الٰہی! میں بھی تیری خَلق سے ایک مخلوق ہوں اور ہم کو تیرے رزق سے بے پرواہی نہیں ہو سکتی، پس تو ہم کو اوروں کے گناہوں کے سبب ہلاک نہ کر۔'' سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ دیکھ کر فرمایا: لوٹ چلو کہ اس چیونٹی کی دعا سے مینہ برسے گا۔(1)
اوزاعیؔ کہتے ہیں:لوگ مینہ کی دعا کے لیے نکلے بلال بن سعد نے خدا کی تعریف وثنا کر کے کہا:اے حاضرین! کیا تم اپنے گناہ پر اقرار نہیں کرتے ہو؟ سب نے کہا: ہم اقرار کرتے ہیں۔ پھر کہا: الٰہی! تو فرماتا ہے:( مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ)(2)
اور ہم اپنی گنہگاری پر اقرار کرتے ہیں پس مغفرت تیری ھماری امثال کے واسطے ہے (ہم جیسے لوگوں کیلئے ہی ہے)الٰہی! ہم کوبخش دے اور ہم پر رحم کر اور ہم کو پانی دے، پھر اپنے ہاتھ اٹھائے اور مینہ برسا۔(3)
کسی نے مالک بن دینار سے کہا: مینہ کے لئے دعا کیجئے، فرمایا: ''تم مینہ برسنے میں دیر سمجھتے ہو اور میں پتھر برسنے میں''، یعنی: تم سمجھتے ہو کہ مینہ برسنے میں دیر ہو گئی اور میں کہتا ہوں یہ خدا کی رحمت ہے کہ پتھر نہیں پڑتے۔(4)
تیسرا سبب: اِستِغْنائے مولیٰ۔ وہ حاکم ہے محکوم نہیں، غالب ہے مغلوب نہیں،ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1''إحیاء العلوم''، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۷. 2ترجمہ کنز الایمان: ''نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں۔ ''(پ۱۰، التوبۃ: ۹۱) 3''إحیاء العلوم''، کتاب الأذکار والدعوات، الباب الثاني، ج۱، ص۴۰۷. 4 المرجع السابق.