پرورش پائی حرام سے، تو اس کی دعا کہاں قبول ہو!''(1)
سفر اور اس پریشاں حالی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ زیادہ جالبِ رحمت ومُورِثِ اِجابت ہوتے ہیں (یعنی: رحمت کو زیادہ کھینچ لانے والے اور دعا کی قبولیت کا باعث ہوتے ہیں)، بایں ہمہ (اس کے باوجود)جب اَکْل وشُرْب(کھاناپینا)حرام سے ہے، اُمید ِاجابت نہیں۔
دوسرا سبب: گناہوں سے تلوُّث (گناہوں میں مبتلا رہنا)۔
قال الرضاء: اگرچہ یہ بھی سببِ اَوّل میں داخل تھا مگر بوجہ مُہْتَم بالشان ہونے کے (یعنی زیادہ اہمیت کا حامل ہونے کی وجہ سے)جدا ذکر فرمایا۔ )o
اسی واسطے دعا سے پہلے مظلوموں کے حقوق واپس کرنا اور ان سے اپنے قصور بخشوانا اور خدا کے سامنے توبہ واستغفار اور تَرْکِ معاصی (گناہوں کے چھوڑنے)پر عزمِ مُصَمَّم (پختہ ارادہ)کرنا لازم ہے۔
کعب احبار سے منقول:زمانہ حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام میں قحط پڑا، آپ بنی اسرائیل کو لے کر تین بار دعا کے واسطے گئے مینہ نہ برسا(یعنی بارش نہ ہوئی)، اللہ عزوجل نے وحی بھیجی: ''اے موسیٰ! میں تیر ی اور تیرے ساتھ والوں کی دعا قبول نہ کروں گا کہ تم میں ایک نَمَّام (چُغل