| فضائلِ دعا |
قال الرضاء: وہ پندرہ ۱۵ ہیں۔ ۵پانچ اِفادہ حضرت مصنف قُدِّسَ سِرُّہ، اور د۱۰ س زیادت فقیر حقیر غُفِرَ لَہٗ ۔ )o
اے عزیز!اگر دعا قبول نہ ہو ، تو اُسے اپنا قصور سمجھے، خدائے تعالیٰ کی شکایت نہ کرے کہ اس کی عطا میں نقصان نہیں، تیری دعا میں نقصان ہے۔(1)اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدیؔ سب پر تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا ہرچہ ہست از قامت ناساز و بے اندام ماست ورنہ تشریف تو بربالائے کس کو تاہ نیست (2)
اے عزیز! دعا چند سبب سے رَد ہوتی ہے:
پہلا سبب: کسی شرط یا ادب کا فوت ہونا اور یہ تیرا قصور ہے،ا پنی خطا پر نادم نہ ہونا اور خدا کی شکایت کرنا، نری بے حیائی ہے۔
قال الرضاء: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک شخص سفر دراز (طویل سفر)کرے، بال اُلجھے، کپڑے گرد میں اَٹے (میلے کچیلے)، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور یَا رَبِّ! یَا رَبِّ! کہے اور اس کا کھانا حرام سے اور پینا حرام سے اور پہننا حرام سے اورــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1یعنی اس مولیٰ کریم عزوجل کی عطا میں کوئی کمی نہیں ، کمی تو تیرے دعا کرنے میں ہے ۔
2 ع کسی پر کم نہیں فضل وکرم تیرا مرے مولیٰ
یہ بداعمالیوں کا ہے نتیجہ کہ پریشاں ہوں