قال الرضاء: سَرِی بن یحییٰ قُدِّسَ سِرُّہ،
بعض اولیاء سے راوی: میں دعا کرتا تھا اللہ تعالیٰ سے کہ مجھے اسمِ اعظم دکھادے ، مجھے آسمان میں ایک ستارہ نظر پڑا جس پر لکھاتھا:
یَا بَدِیْعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ۔)o (3)
''یَا اَللہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ''
کو اسم ِاعظم کہا۔
بشارت (۶): حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن صامت رضی اللہ عنہ کو یوں دعا کرتے سنا:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1اس حدیث مبارکہ کو ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے۔
''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ما جاء في جامع الدعوات... إلخ الحدیث: ۳۴۸۹، ج۵، ص۲۹۱.
و''سنن أبي داود''، کتاب الوتر، باب الدعاء، الحدیث: ۱۴۹۶، ج۲، ص۱۱۴.
2یعنی ''اے زمین و آسمانوں کوبے کسی نمونہ کے پیدا فرمانے والے! اے عظمت وبزرگی والے!''۔
3''الترغیب والترہیب''، کتاب الذکر والدعاء، الترغیب في کلمات یستفتح...إلخ، الحدیث: ۵، ج۲، ص۳۱۸.
و''مسند أبي یعلی''، حدیث أبي بصرۃ الغفاري، الحدیث: ۷۱۷۱، ج۶، ص۱۸۸.
و''فتح الباري''، کتاب الدعوات، باب للہ مائۃ اسم غیر واحدۃ، ج۱۱، ص۱۸۸.