رواہ أحمد والترمذي والنساءي والحاکم مطوَّلاً واللفظ لہ والبیھقي والضیاء في ''المختارۃ''۔(o (1)
بشارت (۲): سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِأَنِّيْ أَشْھَدُ أَنَّکَ أَنْتَ اللہُ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِيْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ، کُفُوًا أَحَدٌ.(2)
ارشاد فرمایا: ''قسم خدا کی تو نے اللہ تعالیٰ سے وہ اسمِ اعظم لے کر سوال کیا کہ جب اس سے سوال کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور جب اس سے دعا کی جاتی ہے، قبول فرماتا ہے۔''
قال الرضاء: رواہ أحمد وابن أبي شیبۃ وأبو داود والترمذي
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اس حدیث کو احمد، ترمذی، نسائی، بیہقی اور حاکم نے تفصیل سے بیان کیا ہے، اور الفاظ ِحدیث حاکم کی روایت کے ہیں، اور ضیاء مقدسی نے ''مختارہ'' میں اس حدیث کو روایت کیا ہے ۔
''المستدرک'' للحاکم، کتاب الدعاء۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۹۰۸، ج۲، ص۱۸۴، بتصرّف۔
2اے اللہ! میں تجھ سے اس گواہی کے طفیل سوال کرتا ہوں کہ بے شک تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو اکیلا وبے نیاز ہے کہ نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ تو کسی سے پیدا ہوا، اور تیرے جوڑ کا کوئی نہیں۔