( لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ) (1)
کی نسبت فرمایا: ''یہ اسم اعظم ہے جو اس کے ساتھ دعا کرے قبول ہو۔''(2)
علماء فرماتے ہیں: آیہ کریمہ قبولِ دعا خصوصاً دفعِ بَلا میں اثرِ تمام رکھتی ہے۔
قال الرضاء: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم نہ بتادوں کہ جب وہ اس سے پکارا جائے، اِجابت کرے (یعنی قبول فرمائے)اور جب اس سے سوال کیا جائے عطا فرمائے؟ وہ وہ دُعا ہے جو یونس
عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ
نے تین تاریکیوں میں کی تھی:
( لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ )
کسی نے عرض کی یا رسول اللہ! یہ خاص یونس
عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ
کے لئے تھا یا سب مسلمانوں کے لیے ہے؟ فرمایا: مگر تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ترجمہ کنز الایمان: ''کوئی معبو د نہیں سوا تیرے، پاکی ہے تجھ کو بے شک مجھ سے بے جا ہوا۔''
(پ۱۷، الأنبیآء : ۸۷)
2 ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الدعاء ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۹۰۸، ج۲، ص۱۸۴۔
و''الحصن الحصین''، ص۳۳.