ذکرہ الزرقاني في الفصل المذکور۔(4)
ان کے مزارات بیت المقدس میں ہیں ۔
چِہِل ودُوُم (۴۲): قرافہ میں امام اَشْہَب وابن القاسم
رَحِمَھُمَا اللہُ تَعَالی
کے مزاروں کے درمیان کھڑے ہو کر سو۱۰۰ بار قل ھو اللہ شریف پڑھے پھر رُوبَقِبلہ جو دعا کرے قبول ہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1اس بات کو علامہ شامی نے ''رد المحتار'' میں ذکر کیا۔
2ابو عبد اللہ احمد قرشی کا شمار مغرب و مصر کے اکابر شیوخ میں ہوتاہے آپ نے چھ سو شیوخ سے استفادہ کیا، کثیر لوگوں نے آپ سے تحصیل علم کیا، آپ کی کرامات مشہور ہیں ۵۹۹ھ میں آپ نے''بیت المقدس'' میں انتقال کیا، اور وہیں پر آپ کا مزار شریف واقع ہے۔
(''شرح المواھب'' للزرقاني، المقصد السابع، الفصل لأول، ج۹، ص۶۶)
3آپ کا نام احمد بن حسین بن حسن شافعی ہے آپ ابن رسلان کی کنیت سے مشہور ہیں، ۷۷۳ھ یا ۷۷۵ھ میں مقام ''رملہ''(جو کہ فلسطین میں واقع ہے)میں آپ کی ولادت ہوئی ، اور آپ کی وفات ''بیت المقدس'' میں ہوئی ۔ (ماخوذ من''معجم المؤلفین''، ج۱، ص۱۲۸)
4اسے علامہ زرقانی نے فصل مذکور(مقصد ِسابع کی فصل اول )میں ذکر فرمایا۔
''شرح المواھب'' للزرقاني، المقصد السابع، الفصل الأوّل في وجوب محبتہ واتباع سنتہ والاقتداء بہدیہ وسیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۹، ص۶۶.
5 اسے بھی علامہ زرقانی نے وہیں پر(یعنی مقصدِ سابع کی فصل اول میں) ذکرفرمایا۔