(یعنی ان دونوں بزرگوں کے مزاروں کے درمیان)(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اس بات کو علامہ زرقانی نے ''اَلْمَوَاہِبُ اللَّدُنِّیَّۃ ''کی شرح میں مقصد سابع کی فصل اول میں ذکرفرمایا۔
''شرح المواھب'' للزرقاني، المقصد السابع، الفصل الأوّل في وجوب محبتہ واتباع سنتہ والاقتداء بہدیہ وسیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۹، ص۱۳۸.
2خواجہ معین الدین حسن اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں، آپ کی ولادت ۵۳۶ھ بمطابق ۱۱۴۱ میں بتائی جاتی ہے، آپ کی وفات ۶۳۳ھ بمطابق ۱۲۳۶ میں ہوئی ، آپ کا مزارہندوستان کے شہر'' اجمیر شریف ''میں واقع ہے۔
(ماخوذ از''اردو دائرہ معارف اسلامیہ''، ج۷، ص۶۴۵-۶۴۶)
3ملک العلماء علاء الدین ابوبکر مسعود کاشانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار ''حلب'' کے جلیل القدر فقہائے کرام میں کیا جاتاہے، آپ نے علم فقہ علاء الدین سمرقندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل کیا بعد میں آپ نے اپنے استاد کی کتاب ''تحفہ'' کی شرح بنام ''بدائع الصنائع'' کی جسے دیکھ کر آپ کے استاد بہت خوش ہوئے اور اپنی عالمہ، فقیہہ بیٹی فاطمہ کا نکاح آپ سے کرادیا آپ کا انتقال ۵۸۷ھ بمطابق ۱۱۹۱ میں ہوا ، ان کی تدفین شہر ''حلب'' میں انہی کی زوجہ کے پہلو میں ہوئی۔(الماخوذ من ''الجواہر المضیۃ''، ج۲، ص۲۴۴-۲۴۶)