| فضائلِ دعا |
سِی وششُم (۳۶): مزارِ مبارک حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔(1)
امام شافعی قدس سرہ فرماتے ہیں:''وہ اِستجابتِ دعا کے لئے تِریاقِ مُجَرَّب ہے۔''(یعنی دعا کے قبول ہونے میں نہایت تجربہ شد ہ عمل ہے ) (2)
سِی وہَفْتُم (۳۷): تربتِ سراپا برکت حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (3)
سِی وہَشْتُم (۳۸): مزار فائض الانوار سیدنا معروف کرخیقَدَّسَ اللہُ تَعَالٰی سِرَّہ،.(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 آپ کی ولادت ۷ صفر المظفر ۱۲۸ھ بمطابق ۷۴۵ میں ہوئی اور۲۵ رجب ۱۸۳ھ بمطابق ۷۹۹ میں آپ نے دار البقاء کی طرف کوچ کیا، مشہور روایت کے مطابق آ پ کو زہر دیکر شہید کیا گیا، آپ کا مزارِ پر انوار ''کاظمین'' میں ہے۔
(ماخوذ از''اردو دائرہ معارف اسلامیہ''، ج۲۱، ص۸۱۰-۸۱۱ ، و''اسلامی انسائیکلوپیڈیا''، ج۲، ص۱۵۸۱)
2 ''لمعات التنقیح''،کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ج۴، ص۳۷۸.
3آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسمِ مبارک عبد القادر بن موسی بن عبد اللہ ہے آپ سلسلہ قادریہ کے بانی، مشہور عالم اور واعظ ہیں ، آپ کا شمار اولیائے کبار اور صوفیائے عظام میں ہوتاہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۴۷۱ھ میں پیداہوئے اور ۵۶۱ھ میں وفات پائی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار پُراَنوار'' بغداد شریف ''میں واقع ہے۔ (''الأعلام'' للزرکلي، ج۴، ص۴۷)
4آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام معروف بن فیروز کرخی ہے ، آپ کی دعائیں اکثر قبول ہوا کرتی تھیں ، آپ مشہور صوفی اور زاہد بزرگ ہیں سیدنا سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے شاگردوں میں سے ہیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۲۰۰ھ میں رِحلت فرمائی ، آپ کا مزار'' بغداد شریف ''میں دریائے دِجلہ کے بائیں کنارے میں مرجع عوام وخواص ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبرِ اطہر کے تَوسُّل سے لوگ شفایاب ہوتے تھے، اہلِ بغداد کہا کرتے تھے: آپ کا مزارِ اقدس (حصول شفا اور اجابتِ دعا کیلئے )تِریاقِ مجرب ہے۔
(''الرسالۃ القشیریۃ''، ص۲۶، '' الأعلام'' للزرکلي، ج۷، ص۲۶۹، ''وفیات الأعیان''، ج۴، ص۴۴۵-۴۴۶)