Brailvi Books

فضائلِ دعا
135 - 322
تیرے حضور حاضر ہوں اور اللہ سے معافی مانگیں اور رسول ان کی بخشش چاہے تو ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ ''
 (پ۵، النساء: ۶۴)
    یہی تو وہ نکتہ اِلٰہیہ ہے جسے گم کر کے وہابیہ چاہِ ضلال میں پڑے (یعنی گمراہی کے گڑھے میں گِرے)
والعِیاذ باللہ ربّ العالمین.
    بِسْت وپنجم (۲۵): منبر ِاطہر کے پاس ۔

    بِسْت وشَشُم (۲۶): مسجد ِاقدس کے ستونوں کے نزدیک ۔ 

    بِسْت وہَفْتُم (۲۷): مسجدِ قُبا شریف میں ۔ 

    بِسْت وہَشْتُم(۲۸): مسجد الفَتْح میں، خصوصاً روز چہار شنبہ بَین الظہروالعصر (خصوصاً بدھ کے دن ظہر وعصر کے درمیان)۔

    امام احمد بسندِ جید اور بزار وغیرھما جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راوی:حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد فتح میں تین دن دعا فرمائی، دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ (یعنی پیر، منگل اور بدھ کے دن)۔ چہار شنبہ کے دن دونوں نماز وں کے بیچ میں اِجابت فرمائی گئی کہ خوشی کے آثار چہرہ انور پر نمودار ہوئے۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:جب مجھے کوئی امرِ مُہِم (اہم کام)بَشِدَّت پیش آتا ہے، میں اس ساعت میں دعا کرتا ہوں اِجابت ظاہر ہوتی ہے۔(1)

    بِسْت ونہُم (۲۹):باقی مساجد طیبہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طر ف منسوب ہیں۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۴۵۶۹، ج۵، ص۸۷.

2یعنی ایسی مسجدیں جن کو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے شرفِ نسبت حاصل ہے جیسے: مسجد غَمامہ، مسجد قِبْلَتَین وغیرہ۔
Flag Counter