( وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَھُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا )
اس پر دلیل کافی ہے۔ سُبْحَانَہ، وَتَعالٰی ہر طرح معاف کر سکتا ہے، مگر ارشاد ہوتا ہے کہ ''اگر وہ جب اپنی جانوں پر ظلم کریں،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1''صحیح مسلم''، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب فضل مجالس الذکر، الحدیث: ۲۶۸۹، ص۱۴۴۴.
2 امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مواجہہ شریف کی تعیین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''زیرِ قندیل اس چاندی کی کیل کے جو حجرہ مطہرہ کی جنوبی دیوار میں چہرہ انور کے مقابل لگی ہے۔''
(''فتاویٰ رضویہ''، ج۱۰، ص۷۶۵)
امیر اہلسنّت مد ظلہ العالی ''رفیق الحرمین'' میں بطور حاشیہ ارشاد فرماتے ہیں: ''لوگ عموماً (سنہری جالی میں موجود) بڑے سوراخ کو مواجہہ شریف سمجھتے ہیں بلکہ میں نے کئی اردو کتابوں میں بھی یہی دیکھا ہے'' مزیدفرماتے ہیں: ''میں نے امام اہلسنّت علیہ الرحمۃ کی تحقیق کے مطابق مواجہہ شریف کی نشاندہی کی ہے اور الحمد للہ صحیح بھی یہی ہے۔'' (''رفیق الحرمین''،ص۱۸۷)
3 ''الحصن الحصین''، أماکن الإجابۃ، ص۳۱.