خواہ اپنی کسی دعا کا قبول دیکھے، خواہ دوسرے مسلمان بھائی کی جس طرح سیدنا زکریا
عَلٰی نَبِیِّنَا الْکَرِیْمِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْمُ
نے حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر فضلِ اعظم ربِّ اکرم اور بے فصل کے میوے اُنہیں ملنا دیکھ کر وہیں اپنے لیے فرزند عطا ہونے کی دعا کی جس کی طرف مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، نے اس آیہ کریمہ کی تلاوت سے اشارہ فرمایا۔)o
بِسْت وسِوُم (۲۳): اولیاء وعلماء کی مجالس
نَفَعَنَا اللہُ تَعَالٰی بِبَرَکَاتِھِمْ أَجْمَعِیْنَ
(اللہ تعالیٰ ہمیں تمام ہی اولیاء وعلماء کی برکتوں سے نفع پہنچائے)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علامہ فاضل ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ''لباب المناسک'' کی شرح ''مسلک متقسط'' میں اس کی طرف اشارہ فرمایا، اور علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ نے ''در مختار '' و''مراقی الفلاح''کے حواشی میں اس کو تفصیل سے بیان کیا، جبکہ امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: میں کہتاہوں کہ اگر ان جگہوں میں دعا کی قبولیت کو عام کہا جائے یعنی کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہ کیاجائے تو بھی بعید نہیں کیونکہ یہی اللہ کے فضل و کرم کے زیادہ موافق ہے ۔
2 ترجمہ کنز الایمان: یہاں پکارا زکریا نے اپنے رب کو (یعنی دعا مانگی) ۔ (پ۳، اٰل عمران: ۳۸)