Brailvi Books

فضائلِ دعا
132 - 322
    یَازْدَہُم (۱۱):صفا۔ 

    دُوازدَہُم (۱۲): مروَہ۔

    سِیزدَہُم (۱۳): مَسْعٰی خصوصا ًدونوں میل سبز کے درمیان۔(1)

    چَہَاردَہُم (۱۴): عرفات، خصوصاً نزدِموقفِ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ 

    پانْزْدَہُم (۱۵): مُزدلِفہ، خصوصاً مَشْعَرُ الْحَرَام(یعنی جبل قزح )۔

    شَانْزدَہُم (۱۶): مِنٰی۔

    ہَفْدَہُم (۱۷)، ہَژْدَہُم (۱۸)، نُوزْدَہُم (۱۹): جمراتِ ثلٰثہ۔(2) 

    بِسْتُم (۲۰): نظر گاہ ِکعبہ(3) جہاں کہیں ہو اور اِن اَماکن سے بعض میں اِجابت بعض کے نزدیک، بعض اوقات سے خاص ہے۔
    قال الرضاء: أشار إلیہ الفاضل عليّ القاریئ في ''شرح اللباب'' وبسطہ الطحطاوي في ''حاشیتي الدرّ ومراقي الفلاح''۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

1مَسْعٰی: مقامِ سعی یعنی صفا و مروہ کے درمیان کاراستہ ، خصوصاً جب دونوں سبز نشانوں کے درمیان پہنچے کہ وہ بھی قبولیتِ دعا کا مقام ہے۔

2 منی اور مکہ کے بیچ میں تین ستون بنے ہیں ان کو جمرہ کہتے ہیں پہلا منی سے قریب جمرہ اولیٰ کہلاتا ہے اور بیچ کا جمرہ وسطی اور اخیر کا مکہ معظمہ سے قریب ہے جمرۃ العقبہ۔

(''بہارِ شریعت''، ج۱، حصہ ششم، ص۱۱۳۹)

3جہاں کہیں سے کعبہ شریف نظر آئے وہ جگہ بھی مقامِ قبولیت ہے۔
Flag Counter