Brailvi Books

فضائلِ دعا
131 - 322
    ہَشْتُم(۸): رکنِ یمانی۔(1)
    قال الرضاء:  خصوصاً جب کہ طواف کرتے وہاں گزر ہو۔ حدیث شریف میں ہے: یہاں
''اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِي الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِي الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ''(2)
کہے، ہزار فرشتے آمین کہیں گے،
رواہ ابن ماجہ.o( (3)
نَہُم (۹):خلف ِمقام ابراہیم
عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْمِ۔
 (مقام ابراہیم کے پیچھے)

    دَہُم (۱۰):نزد زَمزم۔ (چاہِ زمزم کے پاس)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 	      یہ یمن کی جانب مغربی کونہ ہے۔                      (''رفیق الحرمین''، ص۳۶)

       ع         ایمنِ طور کا تھا رکنِ یمانی میں فروغ

             شعلہ طور یہاں انجمن آرا دیکھو      (''حدائق بخشش''، ص۹۵)

نوٹ: ان تمام مقامات کی تفصیل اور حج وعمرہ کے مسائل وآداب سے آگاہی کیلئے'' جواہر البیان''، ''انوار البشارۃ'' ''بہارِشریعت ''حصہ ششم اور ''رفیق الحرمین''کا مطالعہ فرمائیں۔

2اے اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں معافی اور ہر برائی سے عافیت کا سوال کرتاہوں۔ اے رب ھمارے! ہمیں دنیا وآخرت کی بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

3 ''مسند الفردوس'' للدیلمي، باب الواو، الحدیث: ۷۳۳۲، ج۲، ص۳۹۷.

و في روایۃ ابن ماجہ: یسأل عطاء بن أبی رباح عن الرکن الیمانی وہو یطوف بالبیت فقال عطاء حدثنی أبو ہریرۃ أنّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((وکل بہ سبعون ملکا فمن قال: اللھم إنّي أسألک العفو والعافیۃ في الدنیا والآخرۃ ربنا آتنا في الدنیا حسنۃ وفي الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار قالوا: آمین))۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب فضل الطواف، الحدیث: ۲۹۵۷، ج۳، ص۴۳۹).
Flag Counter