ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= عاشق اعلیٰ حضرت امیر اہلسنت مدظلہ العالی اپنی مایہ ناز تالیف ''رفیق الحرمین'' میں مستجار کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ''رکن یمانی اور شامی کے بیچ میں مغربی دیوار کا وہ حصہ جو ''ملتزم'' کے مقابل یعنی عین پیچھے کی سیدھ میں واقع ہے۔ (''رفیق الحرمین''، ص۳۷)
1امیر اہلسنّت مدظلہ العالی '' ارشاد فرماتے ہیں: ''میزاب رحمت'': ''سونے کا پرنالہ یہ رکنِ عراقی وشامی کی شمالی دیوار پر چھت پر نصب ہے، اس سے بارش کا پانی حطیم میں نچھاور ہوتا ہے۔'' مزید اس پر بطور حاشیہ ارشاد فرماتے ہیں: ''میری ناقص معلومات کے مطابق مکے مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے مزارِ فائز الانوار میں چہرہ نور بار میزابِ رحمت کی طرف ہے۔'' (''رفیق الحرمین''، ص۳۷-۳۸)
ع زیر میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِرحمت کا یہاں زورِ برسنا دیکھو (''حدائق بخشش''، ص۹۴)
2حطیم:''کعبہ معظمہ کی شمالی دیوار کے پاس نصف دائرے کی شکل میں فصیل (یعنی باؤنڈری)کے اندر کا حصہ۔ حطیم کعبہ شریف ہی کا حصہ ہے اور اس میں داخل ہونا عین کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہونا ہے۔''
(''رفیق الحرمین''، ص۳۷)
3 حجر اسود:یہ وہ جنتی پتھر ہے جوکعبۃ اللہ شریف کے جنوب مشرقی کونے میں واقع رکن اسود میں نصب ہے، مسلمان اسے چومتے اور استلام کر کے اپنے گناہ دھلواتے ہیں۔
ع دھوچکا ظلمتِ دل بوسہ سنگ اسود
خاک بوسی مدینہ کا بھی رتبہ دیکھو (''حدائق بخشش''، ص۹۵)