میں دونوں لفظ اللہ کے درمیان دعا کرے۔
چِہِل وپنجم (۴۵):قراء تِ ''صحیح بخاری شریف''میں جب اسمائے اصحاب ِبدر پر پہنچے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، کا وہ چھتیس ۳۶ ذکر کر کے ''وغیر ذٰلک'' فرمانا خود بتاتا تھا کہ اِنہیں میں حَصْر نہیں اور بھی ہیں۔ تو فقیر کا یہ نو۹بڑھانا اسی کلمہ''وغیر ذٰلک'' کی شرح تھی اور ہَنُوز حَصْر نہیں۔(3)
وفضل اللہ أطیب وأکثر والحمد للہ ربّ العلمین.o)(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1تہائی رات یعنی مغرب کے بعد سے فجر کے وقت سے پہلے تک کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے پر پہلا حصہ ۔
2ترجمہ کنزالایمان: ''جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا، اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ ''
(پ۸، الأنعام: ۱۲۴)
3یعنی ایسا نہیں کہ قبولیت کے تمام مواقع بیان کردیئے گئے ہوں بلکہ مذکورہ اوقات کے علاوہ اوربھی ہوسکتے ہیں۔
4اور اللہ عزوجل کا فضل سب سے عمدہ وکثیر ہے اور سب خوبیاں اللہ عزوجل کو جو پروردگار سارے جہان والوں کا۔