| فضائلِ دعا |
بِسْت وسِوُم(۲۳):وقتِ ختم قرآن کریم۔
قال الرضاء: خصوصاً قارِی(یعنی پڑھنے والے)کے لیے کہ بارشادِ حدیث شریف ایک دعا ضرور مُستَجاب(مقبول) ہے۔o) (1)
بِسْت و چَہارُم (۲۴): جب مسلمان جہاد میں صف باندھیں۔
بِسْت وپنجُم (۲۵): جب کفار سے لڑائی گرم ہو۔
بِسْت وشَشُم (۲۶): آب ِزمزم پی کر۔
قال الرضاء: حدیث میں فرمایا:((زمزم لما شرب لہ))(2)،
''زمزم اس لئے ہے جس لئے پیا جائے۔'' صحّحہ الإمام ابن الجزري(3)یعنی جس نیت سے پیا جائے وہ حاصل ہو۔
صحیح حدیث میں ہے:ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبل ظہورِ اسلام مہینہ بھر صرف آب زمزم پیا مکہ میں پوشیدہ تھے کچھ کھانے کو نہ ملتا تنہا اس مبارک پانی نے کھانے پانی دونوں کا کام دیا اور بدن نہایت تروتازہ اور فربہ ہوگیا۔o)(4)
بِسْت وہَفتُم (۲۷): جب روزہ افطار کرے ۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۶۴۷، ج۱۸، ص۲۵۹. 2 ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الحج، باب: الشرب من زمزم، الحدیث: ۳۰۶۲، ج۳، ص۴۹۰. 3امام ابن الجزری نے اس حدیث مبارکہ کی تصحیح فرمائی ۔ ''الحصن الحصین''، أدعیۃ الحج، ص۸۹. 4''صحیح مسلم''، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أبي ذر، الحدیث: ۲۴۷۲، ص۱۳۴۱-۱۳۴۳.