Brailvi Books

فضائلِ دعا
121 - 322
    بلکہ ہر نماز کے بعد
کما رواہ الطبراني في ''الکبیر''عن العِرباض بن ساریۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ مرفوعاً(1) .
    اور کلامِ مُصَنِّف عَلاَّم قُدِّسَ سِرُّہ، میں باتباع حدیث اول فرائض پنجگانہ کی تخصیص انکی فضیلت ومَزِیَّت (عمدگی) کے سبب سے ہے۔
کما أفادہ علي القارئ في ''الحرز''.o) (2)
    بِسْتُم(۲۰): سجدے میں ۔

    قال الرضاء:حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:''بندہ اس سے زیادہ کبھی اپنے رب سے قریب نہیں ہوتا، تو سجدے میں دعا زیادہ مانگو۔''o)(3)    

بِسْت ویَکُم(۲۱): بعد تلاوتِ قرآن مجید۔

    بِسْت ودُوُم (۲۲): بعد استماعِ قرآن شریف(توجہ سے تلاوت قرآن سننے کے بعد)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1جیساکہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاًروایت کیا۔

قد وجدنا في'' المعجم الکبیر'' الحدیث: ۶۴۷، ج۱۸، ص۲۵۹عن العرباض بن ساریۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:( من صلی صلاۃ فریضۃ فلہ دعوۃ مستجابۃ، ومن ختم القرآن فلہ دعوۃ مستجابۃ)، ولکن قال الخفاجي في ''نسیم الریاض''، ج۴، ص۸۵ تحت روایۃ عثمان بن حُنیف رضي اللہ عنہ (اللّٰھم إنّي أسألک وأتوجہ۔۔۔۔۔اللّہم شفعہ في۔۔۔الخ): ومنہ علم استحباب الدعاء عقب الصلاۃ۔

2جیساکہ ملا علی قاری نے ''الحرز الثمین'' میں اس کا افادہ فرمایاہے۔

3''صحیح مسلم''، باب ما یقال في الرکوع والسجود، الحدیث: ۴۸۲، ص۲۵۰.
Flag Counter