| فضائلِ دعا |
دلائلِ طرفین ''فتح الباری'' وغیرہ میں مبسوط(1)اور انصاف یہ ہے کہ دونوں جانب کافی قُوَّتیں ہیں طالبِ خیر کو چاہے کہ دونوں وقت دعا میں کوشش کرے۔
یہ طریقہ جمع کا امام احمد وغیرہ اکابر سے منقول، اور بیشک اس میں اُمیداَقوی واَتَم (یعنی اس میں زیادہ کامل وقوی امید ہے)اور مُصادَقتِ مطلوب کی توقُّع اعظم (یعنی مراد برآنے کی بہت توقع ہے)واللہ سبحانہ وتعالی أعلم.
میں کہتا ہوں :اس دوسرے قول پر اس مَا بَین(درمیان)میں دُعا دِل سے ہو گی۔ یا زبان سے دعا کا موقع بعد اَلتحیات ودُرود کے ملے گا، خواہ جلسہ بَین السجدتَین میں، جبکہ امام بھی وہاں قدرے تَوَقُّف کرے،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1یعنی مذکورہ دونوں اقوال کی تائید میں کثیر دلائل کتاب'' فتح الباری'' وغیرہ میں تفصیلا ًمذکور ہیں۔ انظر للتفصیل: ''فتح الباري''، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التي في یوم الجمعۃ، تحت الحدیث: ۹۳۵، ج۳، ص۳۶۵. 2یعنی جمعہ کے دن قبولیتِ دعا کے باب میں دوسری اَہم ساعت، امام کے منبر پر آنے کے بعد سے فرضِ جمعہ کے سلام پھیرنے تک ہے جس پر دلائل بھی آپ نے ملاحظہ فرمائیں، بہرحال اس دوران دل سے ہی دعا مانگی جائے گی کیونکہ اس دوران کسی بھی قسم کا کلام منع ہے اسی کی طرف امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ''فَافْھَم '' سے اشارہ فرمایاہے ،ہاں البتہ ! آ پ رحمۃ اللہ علیہ نے اس دوران بھی دووقت ایسے بتائیں ہیں جن میں زبان سے دعا مانگی جاسکے گی۔
فَافْھَم.)o(2)