Brailvi Books

فضائلِ دعا
117 - 322
    اور ایسا ہی منقول ہے حضرت بَتُول زَہرا
صلوات اللہ وسلامہ علی أبیہا وعلیھا
سے۔(1) 

    اور سعید بن منصور بسند صحیح ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے راوی کہ کچھ صحابہ کرام نے جمع ہو کر ساعتِ جمعہ کا تذکرہ فرمایا، پھرسب اس قول پر متفق ہو کر متفرق ہوئے (یعنی سب اس قول پر اتفاق کرنے کے بعد جدا ہوئے)کہ وہ روز جمعہ کی پچھلی ساعت ہے۔(2) 

    اور یہی مذہب ہے امام شافعی وامام محمد وامام اِسحاق بن رَاہْوَیْہ واِبنُ الزَّمْلَکانی اور ان کے تِلْمِیذ(شاگرد)عَلائی وغَیرہُم علماء کا۔(3)

     امام ابو عمرو بن عبد البر نے فرمایا: ''اس باب میں اس سے ثابت تر کوئی قول نہیں۔''(4) 

    فاضل علی قاری نے کہا: ''یہ تمام اقوال سے زیادہ لائق اعتبار ہے۔''

    امام احمد فرماتے ہیں: ''اکثر احادیث اسی پر ہیں''(5) ولہٰذا حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ،نے اسی کو اختیار فرمایا۔

    دوسرا قول جب امام منبر پر بیٹھے اس وقت سے فرضِ جمعہ کے سلام تک ساعتِ مَوعُودَہ ہے(یعنی یہ وہ ساعت ہے جس میں دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''شعب الإیمان''، باب في الصلاۃ، فضل الجمعۃ، الحدیث: ۲۹۷۷، ج۳، ص۹۳.

2''فتح الباري''، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التي في یوم الجمعۃ، تحت الحدیث: ۹۳۵، ج۳، ص۳۶۵، (بحوالہ سعید بن منصور).

3''فتح الباري''، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ... إلخ، تحت الحدیث: ۹۳۵، ج۳، ص۳۶۵.

4 المرجع السابق.

5 المرجع السابق.
Flag Counter