سے۔(1)
اور سعید بن منصور بسند صحیح ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے راوی کہ کچھ صحابہ کرام نے جمع ہو کر ساعتِ جمعہ کا تذکرہ فرمایا، پھرسب اس قول پر متفق ہو کر متفرق ہوئے (یعنی سب اس قول پر اتفاق کرنے کے بعد جدا ہوئے)کہ وہ روز جمعہ کی پچھلی ساعت ہے۔(2)
اور یہی مذہب ہے امام شافعی وامام محمد وامام اِسحاق بن رَاہْوَیْہ واِبنُ الزَّمْلَکانی اور ان کے تِلْمِیذ(شاگرد)عَلائی وغَیرہُم علماء کا۔(3)
امام ابو عمرو بن عبد البر نے فرمایا: ''اس باب میں اس سے ثابت تر کوئی قول نہیں۔''(4)
فاضل علی قاری نے کہا: ''یہ تمام اقوال سے زیادہ لائق اعتبار ہے۔''
امام احمد فرماتے ہیں: ''اکثر احادیث اسی پر ہیں''(5) ولہٰذا حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ،نے اسی کو اختیار فرمایا۔
دوسرا قول جب امام منبر پر بیٹھے اس وقت سے فرضِ جمعہ کے سلام تک ساعتِ مَوعُودَہ ہے(یعنی یہ وہ ساعت ہے جس میں دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے)۔