| فضائلِ دعا |
اکثر اقوال میں ساعتِ مَرجُوَّہ وہی ہے (یعنی جمعہ کی وہ ساعت جس میں قبولیتِ دعا کی اُمید زیادہ ہے)۔
قال الرضاء:ساعتِ جمعہ کے بارے میں اگرچہ اَقوالِ علماء چالیس سے مُتَجاوِز ہوئے(یعنی بڑھ گئے)مگر قَوِی وراجِح ومُختار اَکابر مُحَقِّقین وجماعاتِ کثیرہ ائمہ دین دو۲ قول ہیں(یعنی وہ قول جسے اکابرمحققین علماء اورکثیر ائمہ کرام رحمہم اللہ نے اختیار فرمایا دو ہیں):
ایک وہ جس کی طرف حضرت مُصَنِّفقُدِّسَ سِرُّہ، ونُوِّرَ قبرُہ،
نے اشارہ فرمایا یعنی ساعتِ اَخیرہ روز جمعہ غروبِ آفتاب سے کچھ ہی پہلے ایک لطیف وقت۔
''اَشباہ'' میں فرمایا:''ھمارا یہی مذہب ہے عامہ مشائخ حنفیہ اسی طرف گئے۔''(1)
یوں ہی ''تتارخانیہ'' میں اسے ھمارے مشا ئخ کرام کا مسلک ٹھہرایا۔(2)
اور یہ مذہب ہے عالِمُ الکِتابَین سیدنا عبد اللہ بن سلام وحضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنھما کا۔(3)
اور اسی طرف رجوع فرمائی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔(4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني: الفوائد، کتاب الصلاۃ، ص۱۳۹. 2''التتارخانیۃ''، کتاب الصلاۃ، الفصل الخامس والعشرون، نوع آخر من ہذا الفصل، فضائل الجمعۃ، ج۲، ص ۸۴. 3 قبلِ اسلام سیدنا عبد اللہ بن سلام اور سیدنا کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنھمایہودیوں کے عالم تھے۔ چنانچہ قرآن پاک وتوریت شریف دونوں کے عالم ہونے کی وجہ سے ''عالِم الکتابَین''یعنی دو آسمانی کتابوں کے عالم کہلاتے ہیں۔ 4''الموطأ'' للإمام مالک، کتاب الجمعۃ، باب: ما جاء في الساعۃ التي في یوم الجمعۃ، الحدیث: ۲۴۶، ج۱، ص۱۱۵-۱۱۶، ملخصاً. و''شعب الایمان''، باب في الصلاۃ، فضل الجمعۃ، الحدیث: ۲۹۷۵، ج۳، ص۹۱-۹۳.