| فضائلِ دعا |
دعا کرا، کہ ان کے منہ سے تو نے گناہ نہ کیا۔''(1)
امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے بچوں سے اپنے لئے دعا کراتے کہ دعا کرو عمر بخشا جائے۔
اور صائم (روزہ دار)وحاجی ومریض ومبتلا سے دعا کرانا اثر تمام رکھتا ہے ۔ ان تین کی حد یثیں تو فصل ہشتم میں آئیں گی اور مبتلا وہ جو کسی دنیوی بلا میں گرفتار ہو یہ مریض سے عام ہو۔
ابو الشیخ نے ''کتاب الثواب'' میں ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی:حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اغتنموا دعوۃ المؤمن المبتلی))
''مسلمان مبتلاء کی دعا غنیمت جانو۔'' (2)
فائدہ:
جب مطلب حاصل ہو اسے خدائے تعالیٰ کی عنایت ومہربانی سمجھے، اپنی چالاکی ودانائی نہ جانے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَاِذَا مَسَّ الْاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰہُ نِعْمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ ؕ)
''جب آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے ہم سے دعا کرتا ہے۔ پھر جب ہم اسے نعمت دیتے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''مثنوی مولانا روم'' (مترجم)، دفتر سوم، ص۴. 2''جامع الأحادیث'' للسیوطي، الھمزۃ مع الغین، الحدیث: ۳۴۴۶، ج۲، ص۶.