(سب خوبیاں اللہ کیلئے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے)۔
ادب ۶۰:تنہا اپنی دعا پر قناعت نہ کرے بلکہ صُلَحا واطفال (یعنی نیک لوگوں اور بچوں)ومساکین اور بیوہ عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کر کے ان سے بھی دعا چاہے کہ اَقرب بقبول ہے(یعنی قبولیت کے زیادہ قریب ہے)۔
اوّلاً: جب اِحسان کیا وہ راضی ہوں گے اور دل سے اس کے لئے دعا کریں گے اور مسلمان کی دعا مسلمان کیلئے اس کی َغیبت (غیر موجودگی)میں نہایت جلد قبول ہوتی ہے۔
ثانیاً: ان کی رضا مندی سے اللہ راضی ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:''اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور فرمائے۔''(2)
ثالثاً: ان کا منہ اس کے لیے دعا میں اس کے منہ سے بہتر ہوگا۔
منقول ہے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خطاب ہوا:اے موسیٰ!مجھ سے اس منہ کے ساتھ دعا مانگ جس سے تو نے گناہ نہ کیا۔ عرض کی الٰہی!وہ منہ کہاں سے لاؤں؟ (یہ انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کی تواضع ہے ورنہ وہ یقینا ہر گناہ سے معصوم ہیں)فرمایا:''اوروں سے