Brailvi Books

فضائلِ دعا
113 - 322
ہیں کہتا ہے یہ مجھے اپنی دانائی سے ملی۔''
 (پ۲۴، سورۃ الزمر: ۴۹)
 بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ)
    ''بلکہ وہ نعمت آزمائش ہے۔''
 (پ۲۴، الزمر: ۴۹)
    کہ دیکھیں ھمارا احسان مانتا ہے یا نہیں۔
 وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوۡنَ  )
    ''لیکن بہت لوگ نہیں جانتے''
 (پ۹، الأعراف: ۱۸۷)
    اور اس نعمت کو اپنی دانائی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ایسا شخص پھر اگر دعا کرتا ہے قبول نہیں ہوتی۔ جو کریم کا احسان نہیں مانتا لائق عطا نہیں مستوجِبِ (یعنی مستحقِ)سزا ہے۔
 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنۡ ذِکْرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا )
    ''جو ھماری یاد سے منہ پھیرے، اس کے لیے ہے تنگ زندگانی۔''
 (پ۱۶، طٰہٰ: ۱۲۴)
    (لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ)
    ''اور بیشک اگرتم شکر کروگے، میں تمہیں زیادہ دوں گا۔''
 (پ۱۳، إبراہیم: ۷)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 لم نعثر علی ہذا الحدیث ولکن عن بعض السلف: (النعم وحشیۃ فقیدوہا بالشکر).

(إحیاء علوم الدین''، کتاب الصبر والشکر، الشطر الثاني، الرکن الثاني، ج۴، ص۱۵۶).
Flag Counter