Brailvi Books

فضائلِ دعا
110 - 322
    ادب ۵۶:أقول:حالت غضب میں بد دعا کا قصد نہ کرے کہ غضب عقل کو چھپا لیتا ہے کیا عجب کہ بعد زوالِ غضب خود اس بد دعا پر نادم ہو، اس مضمون کو حدیث:
 ((لا یقضي القاضي وھو غضبان))(1)
سے استنباط کر سکتے ہیں۔ 

    ادب ۵۷: دعا میں تکبر اور شرم سے بچے مثلاً تنہائی میں دعا بہ نہایت تضرع والحاح (گریہ وزاری اور گڑ گڑا کر)کر رہا ہے ۔ اپنا منہ خوب گڑ گڑانے کا بنا رہا ہے اب کوئی آگیا تو اس حالت سے شرما کر موقوف کردیا۔ یہ سخت حماقت اورمعاذاللہ، اللہ کی جناب میں تکبر سے مشابہ ہے اس کے حضور گڑگڑانا موجب ہزاراں عزت ہے ،نہ کہ معاذ اللہ خلافِ شان وشوکت۔ 

    ادب ۵۸:دعا میں جیسے کہ بلند آواز نہ چاہیے، نہایت پست بھی نہ کرے اور اس قدر تو ضرور ہے کہ اپنے کان تک آواز پہنچے۔ بغیر اس کے مذہبِ راجح پر کوئی کلام وقراء ت ، کلام وقراء ت نہیں ٹھہرتا۔
وقال اللہ تعالٰی:
(وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَاتُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا)(2)
    ادب ۵۹: دعا میں صرف مدعا پر نظر نہ رکھے بلکہ نفسِ دعا کو مقصود بالذات جانے کہ وہ خود عبادت بلکہ مغزِ عبادت ہے مقصد ملنا نہ ملنا در کنار، لذتِ مناجات، نقدِ وقت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1یعنی: غصے کے وقت قاضی کوئی فیصلہ نہ کرے۔

''سنن ابن ماجہ''، کتاب الأحکام، باب لا یحکم الحاکم وھو غضبان، الحدیث: ۲۳۱۶، ج۳، ص۹۳، ملتقطاً۔

2ترجمہ کنز الایمان: ''اور اپنی نمازنہ بہت آواز سے پڑھو ،نہ بالکل آہستہ اور ان دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو۔'' (پ۱۵، بنيۤ إسرآئیل: ۱۱۰)
Flag Counter