| فضائلِ دعا |
وما وقع في ''النھر'' و''الدر''(1) من التحریم فمحملہ ما إذا لم یعلم معناہ کمثل الرقیۃ بالعجمیۃ.(2)
امام ولوالجی فرماتے ہیں:''اللہ تعالیٰ غیر عربی کو دوست نہیں رکھتا''اور فرماتے ہیں:''عربی میں دعا اِجابت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔''(3)
میں کہتا ہوں: مگر جو عربی نہ سمجھتا ہو اور معنی سیکھ کر بتکلف انکی طر ف خیال لے جانا مشوِّشِ خاطر(ارادے کو تشویش میں ڈالتا) ومُخلِ حضور(یکسوئی میں رُکاوٹ)ہو وہ اپنی ہی زبان میں اللہ تعالیٰ کو پکارے کہ حضور ویکسوئی اہم امور ہے۔
ادب ۵۵:اگر دعا کرتے کرتے نیند غالب ہو جگہ بد ل دے یوں بھی نہ جائے تو وضو کر لے یوں بھی نہ جائے تو موقوف کرے۔ صحیح حدیث میں اس کی وصیت فرمائی کہ مَبادا (خدانخواستہ)استغفار کرنا چاہے اور زبان سے اپنے لیے بددعا نکل جائے۔(4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1''النھر الفائق''، کتاب الصلاۃ، فصل إذا أراد الدخول في الصلاۃ کبر، ج۱، ص۲۲۴. و''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۸۵. 2 ''نہر الفائق'' اور ''در مختار'' میں جو غیر عربی میں دعا کو حرام فرمایا وہ حکم اس وقت ہے کہ جب غیر عربی میں دعا کرنے والا ان الفاظ کے معنی نہ جانتا ہو جیسا کہ غیر عربی میں منتر وغیرہ یا جھاڑ پھونک کرنا جیسا کہ بعض اوراد ووظائف یا منتر وغیرہ فارسی میں ہوتے ہیں کہ پڑھنے والا ان کے معنی نہیں جانتا اس طرح پڑھنے میں اندیشہ ہے کہ معنی نہ جانتے ہوئے کوئی بات خلافِ شرع کہہ جائے۔ 3''الولوالجیۃ''، کتاب الطھارۃ، الفصل التاسع، ج۱، ص۹۰. 4''صحیح البخاري''،باب الوضوء من النوم۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۱۲، ج۱ ،ص ۹۴۔ و''سنن الترمذي''،باب ما جاء في الصلاۃ عند النعاس، الحدیث: ۳۵۵، ج۱، ص۳۷۲۔