Brailvi Books

فضائلِ دعا
108 - 322
    یعنی اس کی اذا ن کیونکر صحیح نہ ہو حالانکہ اسے سنا ہے ھمارے شہر کے اکملِ فقہاء واعظم علماء ابو حنیفہ نے۔

    خواب کی باتیں اکثر تاویل طلب ہوتی ہیں تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا حضرت امام پر زماناً تَقَدُّم کچھ مضر نہیں،
واللہ تعالی أعلم.
    ادب ۵۳:جب قصدِ دعا ہو پہلے مسواک کر لے کہ اب اپنے رب سے مناجات کریگا، ایسی حالت میں رائحہ متغیّرہ (یعنی منہ کی بدبو)سخت ناپسند ہے خصوصاً حقّہ پینے والے، خصوصاً تمباکو کھانے والوں کو اس ادب کی رعایت ذکر ودعا ونماز میں نہایت اہم ہے، کچا لہسن پیاز کھانے پر حکم ہوا کہ مسجد میں نہ آئے(1)وہی حکم یہاں بھی ہوگا، مع ہذا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:''مسواک رب کو راضی کرنے والی ہے۔''(2) اور ظاہر ہے کہ رضائے رب باعثِ حصولِ اَرب ہے (اللہ تعالیٰ کی رضا ، مراد ملنے کا سبب ہے)۔ 

    ادب ۵۴: جہاں تک ممکن ہو دعا بہ زبانِ عربی کرے ''غرر الافکار'' وغیرہ میں ھمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ غیرِ عربی میں دعا مکروہ ہے۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''صحیح مسلم''، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب نھي من أکل ثوماً وبصلاً أو کراثاً أو نحوھا، الحدیث: ۵۶۴، ص۲۸۲.

2''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب سواک الرطب والیابس للصائم، الحدیث: ۱۹۳۳، ج۱، ص۶۳۷.

3''ردّ المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في الدعاء بغیر العربیۃ، ج۲، ص ۲۸۵، (بحوالہ ''غرر الأفکار'').
Flag Counter