ادب ۵۳:جب قصدِ دعا ہو پہلے مسواک کر لے کہ اب اپنے رب سے مناجات کریگا، ایسی حالت میں رائحہ متغیّرہ (یعنی منہ کی بدبو)سخت ناپسند ہے خصوصاً حقّہ پینے والے، خصوصاً تمباکو کھانے والوں کو اس ادب کی رعایت ذکر ودعا ونماز میں نہایت اہم ہے، کچا لہسن پیاز کھانے پر حکم ہوا کہ مسجد میں نہ آئے(1)وہی حکم یہاں بھی ہوگا، مع ہذا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:''مسواک رب کو راضی کرنے والی ہے۔''(2) اور ظاہر ہے کہ رضائے رب باعثِ حصولِ اَرب ہے (اللہ تعالیٰ کی رضا ، مراد ملنے کا سبب ہے)۔
ادب ۵۴: جہاں تک ممکن ہو دعا بہ زبانِ عربی کرے ''غرر الافکار'' وغیرہ میں ھمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ غیرِ عربی میں دعا مکروہ ہے۔(3)