''یعنی دھوپ میں ایک بار دعا سائے میں ستر ہ بار کی دعا سے بہتر ہے۔''
اس مضمون کی حدیث فقیر کی نظر سے کہیں نہ گزری حضرت عظیم البرکت مولینا مولوی محمد عبد القادر صاحب قادری دَامَتْ بَرَکَاتُھُمْ سے بھی استفسار کیا (یعنی پوچھا)فرمایا:''میرے خیال میں بھی نہیں۔''
اسی طرح اب کوئی چند مہینے ہوئے اور سید شاہ فضل حسین صاحب پنجابی فقیر سے ''صحیح بخاری شریف'' پڑھتے تھے ایک دن فقیر نے اپنے مکان میں خواب دیکھا کہ ''جامع صحیح'' مطبوع مطبع احمدی پیش نظر ہے اور اس میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی ایک اثرِ موقوف میں کسی مؤذن کی اذان کا ذکر اور اس پر بحث ہے کہ اس کی اذان مطابق سنّت ہے یا نہیں اس پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قد سمعہ أفقہ بلدنا وأعظمھم علماً أبو حنیفۃ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1''مسند الفردوس'' للدیلمي، باب الدال، الحدیث: ۲۸۶۹، ج۱، ص۳۸۷۔