| فضائلِ دعا |
ادب ۵۱:جس امر کا انجام یقینا نہ معلوم ہو کہ اپنے لئے کیسا ہے بلا شرطِ خیر وصلاح دعا نہ کرے۔
قال الرضاء: ممکن ہے کہ جسے یہ اپنے حق میں خیر جانتا ہے انجام اس کا بُرا ہو اور بالعکس تو اپنے منہ سے اپنی مُضَرَّت (نقصان کی دعا)مانگنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾٪)
''قریب ہے کہ تم کسی چیز کو مکروہ سمجھو گے اور وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور قریب ہے کہ تم کسی چیز کو دوست رکھو گے اور وہ تمہارے لیے بری ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔''(پ۲، البقرۃ: ۲۱۶)
اور فرماتا ہے:( فَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّیَجْعَلَ اللہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا )
''قریب ہے کہ تم بعض چیزوں کو ناپسند کرو گے اور اللہ تعالیٰ ان میں خیر کثیر رکھے گا۔''
(پ۴، النسآء: ۱۹)
لہٰذا دعا یوں چاہے کہ الٰہی!اگر میرے لیے یہ امر (کام)دین ودنیا وآخرت میں بہتر ہے تو عطافرما۔
جس کی خیر یت و مُضَرَّت یقینی ہے جس میں دوسرا پہلو نہیں وہاں اس شرط واستثناء کی حاجت نہیں۔ مثلاً: الٰہی! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں۔ الٰہی! مجھ کو دوزخ سے بچا۔'' آمین۔
یہ وہ اکاون ۵۱ ؔ آداب ہیں جو حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ،نے اِفادہ فرمائے اب فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ، ۹ ؔنو اور ذکر کرتا ہے کہ ساٹھ۶۰ ؔ کا عدد کامل ہو۔وباللہ التوفیق: