((من؎۱ سرّہ أن یستجیب اللہ لہ عند الشدائد والکُرَب فلیکثر الدعاء في الرَّخا)).
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ان اشعار کا مفہوم پچھلی بات میں مصنف علیہ الرحمہ نے بیان فرمادیاہے۔
2 ع خزانہ غیب کا تیرے کُھلا ہے بت پرستوں پر
تونصرانی، یہودی کوبھی کبھی محروم نہ چھوڑے
3 ع جو فرمائے کرم ایسا کہ دشمن بھی رہیں شاداں
ہے تُوتو دوستِ عطاریؔ !رہے محروم کیونکر تو
۱ ؎ جس کو یہ پسند ہو کہ مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو اس کو چاہیے کہ آسائش کے وقت دعا کی کثرت کرے۔ (''سنن الترمذي''، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، الحدیث: ۳۳۹۳، ج۵، ص۲۴۸۔)