Brailvi Books

فضائلِ دعا
105 - 322
نیم شب فرعون  ہم گریاں شدے

کیں چہ غل است اے خدابرگرد نم

گرنہ  غل باشد کہ  گوید  من  مہم  (1)
    اے عزیزو! وہ ارحم الراحمین ہے اس سے نا امید ہونا مسلمان کی شان نہیں جو کافروں کو نعمت سے محروم نہیں رکھتا، تجھے کب محروم کریگا۔  ؎
اے کریمے کہ از خزانہ غیب 

گبروترسا وظیفہ  خور داری (2) 

دوستاں   راکجا  کنی  محروم

توکہ  با دشمناں  نظر داری(3)
    ادب ۵۰: تندرسی وخوشی وفراغ دستی کی حالت میں دعا کی کثرت کرے تاکہ سختی ورنج میں بھی دعا قبول ہو۔

    حدیث میں ہے:
 ((من؎۱ سرّہ أن یستجیب اللہ لہ عند الشدائد والکُرَب فلیکثر الدعاء في الرَّخا)).
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1  ان اشعار کا مفہوم پچھلی بات میں مصنف علیہ الرحمہ نے بیان فرمادیاہے۔

2      ع 	 خزانہ غیب کا تیرے کُھلا ہے بت پرستوں پر 

         	تونصرانی، یہودی کوبھی کبھی محروم نہ چھوڑے 

3       ع   	جو فرمائے کرم ایسا کہ دشمن بھی رہیں شاداں 

  	ہے تُوتو دوستِ عطاریؔ !رہے محروم کیونکر تو 

۱ ؎ جس کو یہ پسند ہو کہ مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو اس کو چاہیے کہ آسائش کے وقت دعا کی کثرت کرے۔ (''سنن الترمذي''، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، الحدیث: ۳۳۹۳، ج۵، ص۲۴۸۔)
Flag Counter