( اِنَّکَ مِنَ المُنۡظَرِیۡنَ )(3)
کہتے ہیں فرعون دن بھر خدائی کا دعویٰ کرتا اوررات کو دعا وزاری میں مشغول رہتا اسی سبب سے جاہ وحشم ومال وملک اس کا مدت تک قائم رہا۔ (4) ؎
روز موسیٰ پیش حق نالاں شدے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 اے بے صبرے!اس کریم عزوجل کی بارگاہ میں بھیک مانگنے کا ڈھنگ اور سلیقہ تو سیکھ، اس بلند وبالا پروردگار کی بارگاہ میں پڑا رہ، اور ہمہ وقت اسی کے کرم پر اس امید پر ٹکٹکی باندھے رکھ کہ ابھی مراد برآئیگی ،ابھی حاجت پوری ہوگی،زہے نصیب کہ اس پروردگار کو پکارتے ہوئے اور اس سے مناجات کرتے ہوئے اسکی یاد میں ایسا ڈوب جا کہ تجھے تیرا مقصد ومراد کچھ یاد نہ رہے ،اور اس بات کا یقین کامل کرلے کہ یہ وہ دَرہے جس میں نامرادی ہے ہی نہیں۔
2جو کریم کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ اس پر کھل جاتاہے۔
3ترجمہ کنز الایمان: ''تُو مہلت والوں میں ہے۔''(پ۲۳، صۤ:۸۰)
4''مثنوی مولانا روم''(مترجم)، دفتر اول، ص۶۱.