Brailvi Books

فضائلِ دعا
103 - 322
بارگاہ میں حاضر ہونے، اپنا پاک متعالی (بلند وبالا)نام لینے، اپنی طرف منہ کرنے، اپنے پکارنے کی تجھے اجازت دیتے ہیں، لاکھوں مرادیں اس فضل عظیم پر نثار۔

        اُوبے صبرے!ذرابھیک مانگنا سیکھ، اس آستانِ رَفیع(بلند بارگاہ)کی خاک پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تمہارا کوئی دوست تمہیں کوئی کام کہے اور تم نہ کرو اور جب تم کو اسی دوست سے کوئی کام پڑ جائے تو پہلے تو اس سے کہتے ہوئے تمہیں شرم آئیگی کہ میں کس منھ سے اسے کہوں!اور اگر اپنی غرض میں دیوانے ہوجاؤ اور اسے کہہ بھی دو اور وہ نہ کرے تو تمہیں بالکل ناگوارنہ گزرے گا کہوگے کہ میں نے اسکا کونسا کام کیا تھا جو وہ کرتا، اب سوچنے کا مقام ہے کہ تم اللہ عزوجل کے کتنے احکامات مانتے ہو!اسکے احکامات پر عمل پیرا نہ ہونے کے باوجودزبردستی یہ چاہو کہ دعا قبول کی جائے تو یہ بے حیائی نہیں تو اور کیاہے! اور اے احمق جاہل!اپنے سر سے پاؤں تک ہی غور کرلے کہ تیرے جسم کے ہرہر روئیں میں ہر لمحے ہر گھڑی اسکی ہزارہا نعمتوں اور کرم کی بارش برس رہی ہے کہ تو سوتا بھی ہے تو اُسکے معصوم فرشتے تیری حفاظت کرتے ہیں،تیری نافرمانیوں اور گناہوں کے باوجود تیرا سرسے پاؤں تک صحیح سلامت و صحت مند ہونا،وباؤں اور بلاؤں سے تیرا محفوظ ہونا، نظام ہاضمہ کی درستی، خون کی گردش،اعضاء میں قوت ،آنکھوں کی روشنی، الغرض بے شمار نعمتیں بِن مانگے تجھے عطاہورہی ہیں پھر اگر تیری کوئی آرزو وہ بھی تیری اپنی نافرمانی وغلطی کی وجہ سے پوری نہ بھی ہو تو کس منہ سے شکوے کرتا ہے تجھے کیا معلوم کہ تیرے لئے کس کام میں بھلائی ہو ،تجھے کیا خبر کہ تجھ پر کیسی آفت آنے والی تھی کہ اس دعا کی برکت سے ٹل گئی ،تجھے کیا معلوم کہ اس دعا کے سبب تجھے کتناثواب عطا ہوا کہ تو روز قیامت اس ثواب کو دیکھے تو تمنا کرے کہ کاش میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی ،بظاہر دعاقبول نہ ہونے کی ان تینوں وجوہات میں سے ہر بعد والی وجہ پہلی وجہ سے اعلیٰ اور افضل ہے،ہاں! اگر دعا قبول نہ ہونے کی وجہ سے تیرااس پر سے اعتماد وبھروسہ اٹھ گیا تو جان لے کہ شیطان نے تجھے وسوسہ میں ڈال کر اپنا سا کردیا ،اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی پناہ۔
Flag Counter