اپنا کام اس سے کہتے ہوئے اوّل تو آپ لجاؤ (شرماؤ)گے کہ ہم نے تو اس کا کہنا کیا ہی نہیں اب کس منہ سے اس سے کام کو کہیں اور اگر ''غرض دیوانی ہوتی ہے ''کہہ بھی دیا اوراس نے نہ کیا تو اصلاً محل شکایت نہ جانوگے کہ ہم نے کب کیا تھا جو وہ کرتا۔اب جانچو کہ تم مالک علی الإطلاق عَزَّ جَلَالُہٗکے کتنے احکام بجالاتے ہو۔ اس کا حکم بجا نہ لانا اور اپنی درخواست کا خواہی نخواہی (زبردستی /ناچار)قبول چاہنا کیسی بے حیائی ہے، اُو احمق!پھر فرق دیکھ اپنے سر سے پاؤں تک نظرِ غور کر، ایک ایک روئیں میں ہر وقت ہر آن کتنی کتنی ہزار در ہزار صد ہزار بے شمار نعمتیں ہیں، تو سوتا ہے اور اس کے معصوم بندے (فرشتے)تیری حفاظت کو پہرا دے رہے ہیں، تو گناہ کر رہا ہے اور سر سے پاؤں تک صحت وعافیت، بلاؤں سے حفاظت، کھانے کا ہضم، فُضلات کا دفع، خون کی روانی، اعضاء میں طاقت، آنکھوں میں روشنی، بے حساب کرم بے مانگے بے چاہے تجھ پر اتر رہے ہیں، پھر اگر تیری بعض خواہشیں عطا نہ ہوں کس منہ سے شکایت کرتا ہے، توکیا جانے کہ۱ ؔتیرے لیے بھلائی کا ہے میں ہے، تو کیا جانے کہ۲ ؔ کیسی سخت بلا آنے والی تھی کہ اس دعا نے دفع کی، تو کیا جانے کہ۳ ؔ اس دعا کے عوض کیسا ثواب تیرے لیے ذخیرہ ہورہا ہے، اس کا وعدہ سچاہے، اور قبول کی یہ تینوں صورتیں ہیں جن میں ہر پہلی پچھلی سے اعلیٰ ہے۔ ہاں بے اعتقادی آئی تو یقین جان کہ مارا گیا اور ابلیس لعین نے تجھے اپنا سا کر لیا۔