ایسوں سے کہا جائے کہ اے بے حیا!بے شرمو!ذرا اپنے گریبان میں منہ ڈالو، اگر کوئی تمہار ا برابر والا دوست تم سے ہزار بار کچھ کام اپنے کہے اور تم اس کا ایک کام نہ کرو، تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* چکر لگاتے ہیں ،اور وہ افسرہیں کہ انھیں منھ تک نہیں ٰلگاتے،انھیں جھڑکیاں کھلاتے،اور وہ برسا برس گزرجانے کے باوجود اسے پہلا دن سمجھتے ہیں۔ دنیا دارافسروں کے بارے میں توان دنیا چاہنے والوں کا یہ طرزِ عمل...! لیکن غیب سے روزی دینے والے احکم الحاکمین جَل جَلَالُہ کی بارگاہ میں ...!پہلی بات تو کوئی اپنی عرضی دیتا ہی نہیں اور دیتے بھی ہیں تو اُکتاتے،گھبراتے ہوئے کہ کل کا ہوتا کام آج بلکہ ابھی ہوجائے،اگر کسی نے حصول مقصد کیلئے کوئی وظیفہ بتایابھی توابھی ہفتہ بھربھی نہ پڑھا تھاکہ شکوہ کرنا شروع کردیا کہ میں نے وظائف بھی کیے لیکن کچھ اثر نہیں ہوا ،اور اتنا بے وقوف ہے کہ یہ نہیں جانتا کہ وہ شکوہ کرکے اپنے لئے دعا کی قبولیت کا دروازہ خود بند کرچکاہے ۔
1''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، الحدیث: ۳۶۱۹، ج۵، ص۳۴۸.
2یعنی بعض لوگ تو غصے میں آپے سے اتنا باہر ہو جاتے ہیں کہ دعاؤں اور وظائف پر بھروسہ اور یقین ہی ختم کر بیٹھتے ہیں بلکہ بعض کا تو اللہ عزوجل کے کرم وعنایت اور اسکے قبولیتِ دعا کے وعدے پر سے بھی اعتماد اٹھ جاتاہے۔