الٰہی!میں اکثر دعا کرتا ہوں اور تو قبول نہیں فرماتا حکم ہوا:اے یحییٰ!میں تیری آواز کو دوست رکھتا ہوں اس واسطے تیری دعا میں تاخیر کرتا ہوں۔(1)
قال الرضاء: سگانِ دنیا(2)کے اُمیدواروں کو دیکھا جاتا ہے کہ تین تین برس تک اُمیدواری میں گزارتے ہیں صبح وشام ان کے دروازوں پر دوڑتے ہیں اور وہ ہیں کہ رُخ نہیں ملاتے، بار نہیں دیتے، جھڑکتے، دل تنگ ہوتے، ناک بھَوں چڑھاتے ہیں امیدواری میں لگایا تو بیگار ڈالی، یہ حضرت گرہ (اپنے پَلّے) سے کھاتے گھر سے منگاتے بیکار بیگار کی بلاء اٹھاتے ہیں اور وہاں برسوں گزریں ہَنوز روزِ اوّل ہے مگر یہ نہ امید توڑیں نہ پیچھا چھوڑیں اور أَحکَمُ الحاکِمِین أَکرَمُ الأَکرَمِین عَزَّ جَلَالُہ کے دروازے پر اوّل تو آتا ہی کون ہے اور آئے بھی تو اُکتاتے، گھبراتے، کل کا ہوتا آج ہو جائے، ایک ہفتہ کچھ پڑھتے گزرا اور شکایت ہونے لگی، صاحب پڑھا تو تھا کچھ اثر نہ ہوا، یہ احمق اپنے لیے اجابت کا دروازہ خود بند کر لیتے ہیں۔(3)