Brailvi Books

فضائلِ دعا
100 - 322
الٰہی!میں اکثر دعا کرتا ہوں اور تو قبول نہیں فرماتا حکم ہوا:اے یحییٰ!میں تیری آواز کو دوست رکھتا ہوں اس واسطے تیری دعا میں تاخیر کرتا ہوں۔(1)

    قال الرضاء:  سگانِ دنیا(2)کے اُمیدواروں کو دیکھا جاتا ہے کہ تین تین برس تک اُمیدواری میں گزارتے ہیں صبح وشام ان کے دروازوں پر دوڑتے ہیں اور وہ ہیں کہ رُخ نہیں ملاتے، بار نہیں دیتے، جھڑکتے، دل تنگ ہوتے، ناک بھَوں چڑھاتے ہیں امیدواری میں لگایا تو بیگار ڈالی، یہ حضرت گرہ (اپنے پَلّے) سے کھاتے گھر سے منگاتے بیکار بیگار کی بلاء اٹھاتے ہیں اور وہاں برسوں گزریں ہَنوز روزِ اوّل ہے مگر یہ نہ امید توڑیں نہ پیچھا چھوڑیں اور أَحکَمُ الحاکِمِین أَکرَمُ الأَکرَمِین عَزَّ جَلَالُہ کے دروازے پر اوّل تو آتا ہی کون ہے اور آئے بھی تو اُکتاتے، گھبراتے، کل کا ہوتا آج ہو جائے، ایک ہفتہ کچھ پڑھتے گزرا اور شکایت ہونے لگی، صاحب پڑھا تو تھا کچھ اثر نہ ہوا، یہ احمق اپنے لیے اجابت کا دروازہ خود بند کر لیتے ہیں۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''الرسالۃ القشیریۃ''، باب الدعاء، ص۲۹۷.

2 سگان، سگ کی جمع ہے اور سگ فارسی میں کتے کو کہتے ہیں چونکہ اہل اللہ رحمھم اللہ اربابِ اقتدار سے دور ہی رہتے ہیں اور یہ طبقہ عموما ظلم وستم اور غرور وتکبر سے بچ نہیں سکتا، اقتدار کے نشے میں نہ جانے یہ حکاّم اپنے آپ کو کیا سمجھے ہوتے ہیں۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ان کو سگان ِ دنیا کہہ کر مخاطَب کیا۔

3بعض اوقات دنیوی افسران کسی کو آئندہ ملازمت کی امید دلا کر بلا اُجرت کام لیتے اورطرح طرح سے نخرے دکھاتے ہیں مزید یہ کہ اس امیدوار کو اپنے اخراجات وغیرہ بھی اپنے پلے سے دینے پڑتے ہیں، ان تمام مصیبتوں اوربلاؤں کے باوجود دنیوی لالچ کا حال یہ ہے کہ امید ختم نہیں ہوتی اور سالہا سال اس امید پر لگادیتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی تو نوکری مل ہی جائیگی اور اسی وجہ سے انکے دفاتر کے صبح شام *
Flag Counter