امرنا باقام الصلٰوۃ وایتاء الزکٰوۃ ومن لم یزک فلا صلٰوۃ لہ
هميں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہیں ۔
(المعجم الکبیر،الحدیث ۱۰۰۹۵ج۱۰،ص۱۰۳)
سبحان اﷲ! جب زکوٰۃ نہ دینے والے کی نماز، روزے،حج تک مقبول نہیں تو اس نفل خیرات نام کی کائنات سے کیا امید ہے بلکہ انہی سے اصبہانی کی روایت میں آیا کہ فرماتے ہیں:
من اقام الصلٰوۃ ولم یؤت الزکوۃ فلیس بمسلم ینفعہ۔
جو نماز ادا کرے اور زکوٰۃ نہ دے وہ مُسلمان نہیں کہ اسے اس کا عمل کام آئے۔(الزواجر،ج۱،ص۲۸۰) الٰہی !مسلمان کو ہدایت فرما آمین!
جو صدقہ وخیرات کر چکا اس کا حکم!
با لجملہ جس شخص نے آ ج تک جس قدر خیرات کی ،مسجد بنا ئی ،گاؤں وقف کیا ،یہ سب امور صحیح و لازم تو ہو گئے کہ اب نہ دی ہو ئی خیرات فقیر سے واپس کر سکتا ہے نہ کئے ہوئے وقف کو پھیر لینے کا اختیا ر رکھتا ہے ،نہ اس گاؤں کی توفیر ادائے زکٰوۃ ،خواہ اپنے اور کسی کام میں صرف کر سکتا ہے کہ وقف بعد تمامی لازم و حتمی ہو جاتا ہے