| فیضانِ زکاۃ |
اور تکلیف وہی جھیلی جو بچّہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس سے روپیہ تو اٹھا مگر جبکہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہُوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہیں۔ اسی کتاب مبارک میں حضور مولیٰ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ:
فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض لم یقبل منہ واھین
یعنی فرض چھوڑ کر سنّت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا۔
(شرح فتوح الغیب،ص۵۱۱تا۵۱۴)
حضرت شیخ الشیوخ امام شہاب الملّۃ والدّین سُہروردی قدس سرہ العزیز عوارف شریف کے باب الثامن والثلثین میں حضرت خواص رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل فرماتے ہیں:
بلغنا ان اﷲلایقبل نافلۃحتی یؤدی فریضۃ یقول اﷲتعالیٰ مثلکم کمثل العبد السوء بدء بالھدیۃ قبل قضاء الدین۔
یعنی ہمیں خبر پہنچی کہ اﷲعزّوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ فرض ادا کیا جائے، اﷲتعالیٰ ایسے لوگوں سے فرماتاہے کہاوت تمھاری بد بندہ کی مانند ہے جو قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے۔
(عوارف المعارف،ص۱۹۱)
چار فرائض میں تین پر عمل کرنا
خود حدیث میں ہے: حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اربع فرضھن اﷲفی الا سلام فمن جاء بثلث لم یغنین عنہ شیئًا حتی یاتی بھن جمیعاًالصّلوۃوالزکوٰۃ وصیام رمضان وحج البیت۔