| فیضانِ زکاۃ |
جس کے ابطال کا ہر گز اختیا ر نہیں رہتا ۔
مگر اس کے باوجود جب تک زکوٰۃ پُوری پُوری نہ ادا کرے ان افعال پر امیدِ ثواب و قبول نہیں کہ کسی فعل کا صحیح ہوجانا اور بات ہے اور اس پر ثواب ملنا ، مقبول بارگاہ ہونا اور بات ہے، مثلاًاگر کوئی شخص دکھا وے کے لیے نماز پڑھے نماز صحیح تو ہوگئی فرض اُتر گیا، پر نہ قبول ہوگی نہ ثواب پائے گا، بلکہ الٹا گناہگار ہوگا، یہی حال اس شخص کا ہے ۔شیطان کے وار کو پہچانئے
اے عزیز!اب شیطان لعین کہ انسان کاکھلا دُشمن ہے بالکل ہلاک کر دینے اور یہ ذرا سا ڈورا جو قصدِ خیرات کا لگا رہ گیا ہے جس سے فقراء کو تو نفع ہے اسے بھی کاٹ دینے کے لیے یوں فقرہ سُجھائے گا کہ جو خیرات قبول نہیں تو کرنے سے کیا فائدہ، چلو اسے بھی دُور کرو، اور شیطان کی پوری بندگی بجا لاؤ، مگر اﷲعزوجل کو تیری بھلائی اور عذاب شدید سے رہائی منظور ہے، وہ تیرے دل میں ڈالے گاکہ اس حکم شرعی کا جواب یہ نہ تھا جو اس دشمنِ ایمان نے تجھے سکھایا اور رہا سہابالکل ہی متمرد وسرکش بنایا بلکہ تجھے تو فکر کرنی تھی جس کے باعث عذابِ سلطانی سے بھی نجات ملتی اور آج تک کے یہ وقف ومسجد و خیرات بھی سب قبول ہوجا نے کی اُمید پڑتی، بھلا غور کرو وہ بات بہتر کہ بگڑتے ہُوئے کام پھر بن جائیں، اکارت جاتی محنتیں از سرِ نو ثمرہ لائیں یا معاذاﷲیہ بہتر کہ رہی سہی نام کو جو صورتِ بندگی باقی ہے اسے بھی سلام