Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
97 - 149
 عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالےٰ عنہ کو بلا کر فرمایا: اے عمر !اﷲسے ڈرنا اور جان لو کہ اﷲکے کچھ کام دن میں ہیں کہ انھیں رات میں کرو تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے، اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا جب تک فرض ادا نہ کرلیا جائے۔
(حلیۃ الاولیاء،اسم ابوبکر الصدیق،ج۱،ص۷۱)
غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنبیہ
    حضور پُر نور سیّد نا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملّۃ والدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب مستطاب'' فتوح الغیب شریف ''میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمائی ہیں جوفرض چھوڑ کر نفل بجالائے۔ فرماتے ہیں: اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے ، یہ وہاں تو حاضر نہ ہُوا اور اس کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے۔ پھر حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین سید نا مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اﷲتعالیٰ وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں : ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچّہ ہونے کے دن قریب آئے اِسقاط (یعنی بچہ ضائع)ہوگیا اب وہ نہ حا ملہ ہے نہ بچّہ والی۔ یعنی جب پُورے دنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پُوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ (یعنی پھل)خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی ، اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ
Flag Counter