Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
96 - 149
صرف کرے اور اﷲعَزَّوَجَلَّ کا فرض او راس بادشاہ قہار کا وہ بھاری قرض گردن پر رہنے دے۔ شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے۔نادان سمجھتا ہی نہیں،یہ سمجھا کہ نیک کام کررہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی ہے، اس کے قبول کی اُمید تو مفقود اور اس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجئے اور بالائی بیکار تحفے بھیجئے وہ قابلِ قبول ہوں گے خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان و جہانیاں سے بے نیاز ؟ یوں یقین نہ آئے تو دنیا کے جُھوٹے حاکموں ہی کو آزمالے، کوئی زمین دار مال گزاری توبند کر لے اور تحفے میں ڈالیاں بھیجا کرے، دیکھو تو سرکاری مجرم ٹھہرتا ہے یا اس کی ڈالیاں کچھ بہبود کا پھل لاتی ہیں؟ذرا آدمی اپنے ہی گریبان میں منہ ڈالے،فرض کیجئے آسامیوں سے کسی کھنڈ ساری(چینی بنانے والے ) کارَس بندھا ہوا ہے جب دینے کا وقت آئے وہ رَس تو ہرگز نہ دیں مگر تحفے میں آم خربوزے بھیجیں، کیا یہ شخص ان آسامیوں سے راضی ہوگا یا آتے ہوئے اس کی نادہندگی پر جو آزار انھیں پہنچا سکتا ہے ان آم خربوزے کے بدلے اس سے بازآئے گا؟ سبحان اﷲ! جب ایک کھنڈ ساری کے مطالبہ کا یہ حال ہے تو ملک الملوک احکم الحاکمین جل وعلا کے قرض کا کیا پُوچھنا!
امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت
     جب خلیفہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سیّد ناصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ
Flag Counter