Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
93 - 149
افراد کے ہاتھ میں رقم پِھرانی چاہے تا کہ سب کو ثواب ملے مَثَلاً حِیلہ کیلئے فقیرشَرعی کو ۱۲ لاکھ روپے زکوٰۃ دی، قَبضہ کے بعد وہ کسی بھی اسلامی بھائی کو تُحفۃً دیدے یہ بھی قبضے میں لیکر کسی اور کو مالِک بنا دے، یوں سبھی بہ نیّتِ ثواب ایک دوسرے کو مالک بناتے رہیں، آخِر والا مسجِد یا جس کام کیلئے حِیلہ کیا تھا اُس کیلئے دیدے تو اِن شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سبھی کو بارہ بارہ لاکھ روپے صَدَقہ کرنے کا ثواب ملیگا ۔ چُنانچِہ حضرتِ سيدنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت  ہے، تاجدار ِرسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، پیکرِ جُودو سخاوت، سراپا رَحمت، محبوبِ ربُّ العزّت  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ، اگر سو ہاتھوں ميں صَدَقہ گزرا تو سب کو وَیسا ہی ثواب ملے گا جيسا دينے والے کيلئے ہے اور اس کے اَجر ميں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( تاریخ بغداد،ج۷،ص۱۳۵)
رکھ مت لینا
     حِیلہ کرتے وقْت شَرعی فقير کو يہ نہ کہے کہ واپَس دے دينا ،رکھ مت لينا وغيرہ وغیرہ ، بِالفرض ایسا کہہ بھی دیا تب بھی زکوٰۃ کی ادائیگی وحِیلہ ميں کوئی فرق نہيں پڑے گا کيونکہ صَدَقات وزکوٰۃ اورتُحفہ دينے ميں اِس قسم کے شَرطِيہ اَلفاظ فاسِد ہيں۔اعلیٰ حضرت ،امام اہلِ سنت ،مجدددين وملت مولانا شاہ احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی شامی کے حوالے سے فرماتے ہيں،'' ہبہ اور صَدَقہ شرطِ فاسِد سے فاسِد نہيں ہوتے ''۔ (فتاوی رضويہ مُخَرَّجَہ ،ج۱۰، ص ۱۰۸)
Flag Counter