اگر بھروسے کا کوئی آدمی نہ مل سکے تو اس کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ اگر پانچ ہزار روپے زکوٰۃبنتی ہو تو کسی شرعی فقیر کے ہاتھ کوئی چیز مثلاًچند کلو گندم پانچ ہزار کی بیچی جائے اور اسے سمجھا دیا جائے کہ اس کی قیمت تمہیں نہیں دینی پڑے گی بلکہ ہم تمہیں رقم دیں گے اسی سے ادا کردینا ۔ جب وہ بیع قبول کرلے تو گندم اسے دے دی جائے ، اس طرح وہ آپ کا پانچ ہزار کا مقروض ہوگیا ۔اب اسے پانچ ہزار روپے زکوٰۃ کی مد میں دیں جب وہ اس پر قبضہ کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوگئی ،پھر آپ گندم کی قیمت کے طور پر وہ پانچ ہزار واپس لے لیں ،اگر وہ دینے سے انکار کرے تو جبرً ا (زبر دستی)بھی لے سکتے ہیں کیونکہ قرض زبردستی بھی وصول کیا جاسکتا ہے ۔
(الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳، ص۲۲۶،ماخوذازفتاویٰ امجدیہ،ج۱،ص۳۸۸)
فقیر کو زکوٰۃ کی رقم بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کا مشورہ دینا
حیلہ شرعی میں دینے کے بعد اس فقیر کو کسی امرِ خیر کے لئے دینے کا کہہ سکتے