Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
92 - 149
صَدَقہ نہ رہا تھا ۔ یوں ہی کوئی مستحق شَخص زکوٰۃ اپنے قَبضہ میں لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے سکتا یا مسجِد وغیرہ کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ مذکورہ مستحق شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ، ھَدِیَّہ یا عَطِیَّہ ہو گیا ۔
حیلہ شرعی کا طریقہ
    حیلہ شرعی کا طریقہ یہ ہے کسی شرعی فقیر کو زکوٰۃ کا مالک بنادیں پھر وہ(آپ کے مشورے پر یاخود) اپنی طرف سے کسی نیک کام میں خرچ کرنے کے لئے دے دے ۔ تو ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں کو ثواب ہوگا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں،زکوٰۃ کی رقم مرُدے کی تَجہیز وتکفين يا مسجِدکی تعمير ميں صَرف نہيں کر سکتے کہ تَمليک فقير ( یعنی فقیر کو مالِک کرنا)نہ پائی گئی ۔ اگر ان اُمور ميں خرچ کرنا چاہيں تو اِس کا طریقہ يہ ہے کہ فقير کو ( زکوٰۃ کی رقم کا ) مالِک کرديں اور وہ ( تعمير مسجِد وغيرہ ميں )صَرف کرے، اس طرح ثو اب دونوں کو ہو گا ۔ (ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۳۴۳)
100 افراد کو برابر برابر ثواب ملے
    ميٹھے ميٹھے اسلامی بھائيو! ديکھا آپ نے!کفن دَفن بلکہ تعمير مسجِدميں بھی حيلہ شَرعی کے ذَرِيعہ زکوٰۃ ا ستِعمال کی جاسکتی ہے۔ کيونکہ زکوٰۃ تو فقير کے حق ميں تھی جب فقير نے قَبضہ کر ليا تو اب وہ مالِک ہوچکا، جو چاہے کرے۔ حیلہ شَرعی کی بَرَکت سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی اور فقیر بھی مسجِد میں دیکر ثواب کا حقدار ہو گیا ۔ فقیرِشَرعی کو حِیلے کا مسئلہ بے شک سمجھا دیا جائے ۔حِیلہ کرتے وقت ممکِن ہو تو زیادہ
Flag Counter