Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
91 - 149
 اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا جبر ئيل عليہ الصلٰوۃُو السلام کوحضرت سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت ميں بھیجا کہ ان ميں صُلح کروا ديں ۔ حضرتِ سیِّدَتُناسارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی ، '' مَاحِيلَۃُ يمينی'' يعنی ميری قسم کا کيا حِيلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر وَحی نازِل ہوئی کہ (حضرتِ )سارہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کو حکم دو کہ وہ (حضرتِ) ہاجِرہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کے کان چَھيد ديں ۔ اُسی وقت سے عورَتوں کے کان چَھيدنے کا رَواج پڑا۔
( غمزعُيون البصائر شرح الاشباہ والنظائر،ج۳،ص۲۹۵)
گائے کے گوشت کاتحفہ
    اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے رِوایت ہے کہ دو جہاں کے سلطان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رَحمٰن عَزَّوَجَلّ َوصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ و سلَّم کی خدمت میں گائے کا گوشت حاضِر کیا گیا ،کسی نے عَرض کی، یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنا بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر صَدَقہ ہوا تھا۔فرمایا :
ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدِیَّۃٌ۔
یعنی یہ بریرہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے۔
(صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ،الحدیث ۱۰۷۵ ص ۵۴۱ )
زکوٰۃ کا شَرعی حِيلہ
     حضرتِ سَیِّدَتُنا بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو کہ صَدَقہ کی حقدارتھیں ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہوا گائے کا گوشت اگر چہ ان کے حق میں صَدَقہ ہی تھا مگر ان کے قَبضہ کر لینے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ
Flag Counter