| فیضانِ زکاۃ |
ترجَمہ کنزالايمان: اور فرمايا کہ اپنے ہاتھ ميں ايک جھاڑو لے کر اِس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔(پ ۲۳،صۤ: ۴۴)
''فتاوٰی عالمگيری '' ميں حِيلوں کاايک مُستقِل باب ہے جس کا نام ''کتابُ الحِیَل'' ہے چُنانچِہ '' عالمگيری کتابُ الحِیَل'' ميں ہے،'' جو حِيلہ کسی کا حق مارنے يا اس ميں شُبہ پيدا کرنے يا باطِل سے فَریب دينے کيلئے کيا جائے وہ مکروہ ہے اور جوحِيلہ اس لئے کيا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے يا حلال کو حاصِل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حيلوں کے جائز ہونے کی دليل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فر مان ہے :وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ
ترجَمہ کنزالايمان : اور فرماياکہ اپنے ہاتھ ميں ايک جھاڑو لے کر اس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔ (پ ۲۳،صۤ: ۴۴)
(الفتاوٰی الھندیۃ ،کتاب الحیل ،ج۶،ص۳۹۰)
کان چَھيد نے کا رَواج کب سے ہوا؟
حیلے کے جواز پر ایک اور دلیل مُلا حِظہ فرمایئے چُنانچِہ حضرتِ سيدنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ايک بارحضرتِ سیِّدَتُناسارہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا ہاجِرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ميں کچھ چَپقَلش ہو گئی ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو ميں ہا جِرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کوئی عُضو کاٹوں گی ۔